ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / بھٹکل کے بینکوں کے صحن میں متاثرہ کیمپوں کا منظر : مسائل کے انبار، بزنس ٹھپ، بازار خاموش

بھٹکل کے بینکوں کے صحن میں متاثرہ کیمپوں کا منظر : مسائل کے انبار، بزنس ٹھپ، بازار خاموش

Mon, 14 Nov 2016 20:36:48    S.O. News Service

بھٹکل:14/نومبر (ایس او نیوز)بڑے نوٹوں کو کالعدم قرار دے کر 5دن پورے ہونے کے بعد بھی مسائل جوں کے توں باقی ہیں، عوام گھر میں جمع شدہ رقم کونئے نوٹوں میں تبدیل کرنے کے لئے پرانے بڑے نوٹوں کو ہاتھوں میں تھامے بینک کے باہر قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ تعلقہ کے تمام بینک گذشتہ 5-6 دنوں میں کروڑوں روپیہ جمع کر چکے ہیں۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ اتنی ساری رقم جمع کرنے اور تھوڑی سی رقم منتقل کرنے کے بعد یومیہ اخراجات کو پورا کرنا مشکل ہورہاہے۔ حیران پریشان عوام بینکوں کے صحن میں جمع ہورہے ہیں،بینکوں کے  صحن ہو بہو متاثروں کے کیمپ کا منظر پیش کررہے ہیں۔

قطاروں میں کھڑے عوام کو دھوپ ،پیاس وغیرہ سے راحت دینے کے لئے کچھ اداروں کی جانب  سے پانی کےانتظامات کئے جارہے ہیں۔ بھٹکل اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے سامنے 2 شامیانے لگا ئے گئے ہیں ۔ عوام گھر ، بازاراور اپنےکاروبار کو چھوڑچھاڑ کر بینکوں کا رخ کئے جانےسے مارکیٹ تقریباً سو گئی ہے۔  بیوپار نہ ہونےاور ضرورت کی چیزیں خریدنے سے قاصر عوام کی تکلیف دوگنی ہوگئی ہے، پانی کے لئے پیسہ خرچ کریں گے تو گھر کا خرچ کیسے کریں، قطار چھوڑکر جائیں تو باری چلی جانے کا خدشہ، اسی تذبذب میں عوام دن گذاررہے ہیں۔۔ حالات میں اگر سدھار نہیں ہواتو پھر کونسے دوکاندار بینکوں کا رخ کریں گے  یہ کہنا مشکل ہے۔

پیر کو تعلقہ کے چندایک بینکوں نے ایک دو گھنٹوں کے لئے اپنے اے ٹی ایم کھلے رکھنے کے بعد بند کردئیے ۔ اے ٹی ایم کا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوپایا ہے۔ حالات سے مایوس عوام رقم ڈرا کرنے اور روپئے تبدیل کرنےکے لئے دوبارہ بینکوں کا رخ کررہے ہیں، جہاں قطار میں کھڑے ر ہ کر اپنی باری کا انتظارکرنا مجبوری بن گئی ہے۔تعلقہ میں تلسی تہوار، پوجا پروگرام  وغیرہ کے لئے پھول ، پٹاخوں کی زیادہ خریداری نہیں ہورہی ہے جس کی بنا پر پھول بیوپاری بھی پریشان ہیں۔ پڑوسی اضلاع کے بیوپاری بھی کافی مایوس ہیں، نئی 2000ہزار کی نوٹ بازارمیں تو آئی ہے لیکن کون چلر دے گا، کسی کے پاس چلر نہ ہونے کی وجہ سے چھوٹے موٹی خریداری بھی نہیں ہورہی ہے۔ جس سے مارکیٹ کو کافی نقصان ہورہا ہے۔


Share: